اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے قومی سلامتی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری نے ایران کے خلاف صہیونی ریاست کی حالیہ گیدڑ بھبکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج کے پاس ایران کے خلاف ہونے والے کسی بھی قسم کے اقدام کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے۔انھوں نے مغرب کو بھی مغربی دنیا کو بھی ایران کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی اقدام کے خوفناک نتائج سے خبردار کیا اور انھوں نے صہیونی ریاست کے سربراہ شیمون پیرز کے حالیہ موقف کو ہرزہ سرائی قرار دیا اور کہا کہ "ّپیرز پرامن ماحول میں احکامات دینے اور دھمکیاں دینا تو جانتا ہے لیکن اگر وہ حقیقتا میدان عمل اتر کر دیکھے تو میں نہیں سمجھتا کہ تو وہ اتنی آسانی سے ایران کے خلاف فوجی اقدام کے بارے میں زبان کھولنے سے احتراز میں ہی اپنی عافیت سمجھے گا۔انھوں نے کہا کہ ہمیں صرف یہی معلوم ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کی جانب سے ایران کے خلاف کسی قسم کے فوجی اقدام کا واحد نتیجہ اس ریاست کی پشیمانی اور ندامت کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا۔ انھوں نے کہا: صہیونی سرغنوں کو لبنان اور فلسطین کی مزاحمت تحریکوں کی جانب سے نہایت بری شکست اور ناکامیاں یاد رکھنی چاہئیں اور انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ایران حزب اللہ اور حماس کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہے جبکہ اس ریاست نے ان دو جماعتوں کے تھوڑے سے مجاہدین کے ہاتھوں اپنی منحوس تاریخ کی سب سے بڑی شکست کھائی ہے، اور انہیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ ایران کا اقدام کئی گنا شدید اور اس جعلی ریاست کی شکست دسیوں گنا بری اور تباہ کن ہوگی۔انھوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے کسی اقدام کی صورت میں ہمارے ہاتھ بندھے نہیں ہیں اور ایران کی جوابی کاروائی نہایت شدید اور ویران کن ہوگی۔قومی سلامتی کمیشن کے نائب سربراہ نے کہا: فرانس نے حال ہی میں کہا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں ایک المیہ رونما ہوگا لیکن فرانس کو بھی جان لینا چاہئے کہ ایران پر کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں آزاد اور مستقل حکومتیں اور قومیں بھی ایران کا ساتھ دیں گی اور پھر فرانس کے حکام صہیونی ریاست کے حکام کی نسبت حقائق سے زیادہ آگہی رکھتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہيں کہ ایران پر حملہ ہوا تو اس کے نتیجے میں جو جنگ شروع ہوگی اس کا دائرہ کار مشرق وسطی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ دنیا کے "دوسرے حصے" بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔
........
/110